Hazrat adrees ka waqia
حضرت ادریس علیہ السلام کا واقعہ اسلامی تاریخ اور قصص الانبیاء میں اہم مقام رکھتا ہے۔ چونکہ آپ نے یوٹیوب کے متن کے مطابق تفصیل مانگی ہے، میں اسے عمومی طور پر اسلامی روایات اور یوٹیوب پر доступ مواد کی بنیاد پر اردو میں بیان کروں گا، جو کہ قصص الانبیاء کے موضوع پر مبنی ویڈیوز سے مطابقت رکھتا ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں قرآن مجید میں مختصر ذکر ہے، لیکن اسلامی روایات اور تفاسیر نے ان کی زندگی کے واقعات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
### حضرت ادریس علیہ السلام کا تعارف
حضرت ادریس علیہ السلام انبیاء میں سے ایک عظیم نبی ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں سورہ مریم (آیت 56-57) اور سورہ الانبیاء (آیت 85) میں ملتا ہے۔ سورہ مریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
**"اور کتاب میں ادریس کا ذکر کرو، بے شک وہ سچا نبی تھا، اور ہم نے اسے بلند مقام پر اٹھایا۔"**
(سورہ مریم: 56-57)
ان کا نام "ادریس" ہے، اور بعض روایات کے مطابق ان کا اصلی نام "اخنوخ" (Enoch) تھا۔ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پڑپوتے اور حضرت شیث علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ انہیں نبیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جنہیں اللہ نے خاص مقام عطا کیا۔
### زمانہ اور حالات
حضرت ادریس علیہ السلام کا زمانہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کا ہے، جب انسانوں نے زمین پر آباد ہونا شروع کیا تھا۔ اس وقت لوگ بت پرستی اور گمراہی کی طرف مائل ہو رہے تھے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے بھیجا۔ وہ اپنے زمانے کے عالم، سائنسدان، اور عابد انسان تھے۔
### حضرت ادریس علیہ السلام کی خدمات
1. **علم و حکمت**:
حضرت ادریس علیہ السلام کو علم فلکیات (Astronomy) اور ریاضی کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ستاروں کی حرکات و سکنات کا مطالعہ کیا اور اس علم کو لوگوں تک پہنچایا۔ یوٹیوب پر قصص الانبیاء کی ویڈیوز میں اکثر ذکر ہوتا ہے کہ انہیں اللہ نے خاص حکمت عطا کی تھی، جس کی وجہ سے وہ اپنے زمانے کے لوگوں کے لیے رہنما بنے۔
2. **قلم اور تحریر**:
روایات کے مطابق، حضرت ادریس علیہ السلام پہلے نبی تھے جنہوں نے قلم سے لکھنا شروع کیا۔ انہوں نے تحریر کے ذریعے علم کو محفوظ کرنے کا طریقہ متعارف کروایا، جو انسانیت کے لیے ایک عظیم تحفہ تھا۔
3. **درزی کا فن**:
انہیں سلائی اور کپڑے بنانے کا فن سکھانے والا بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے لوگ جانوروں کی کھالوں سے کپڑے بناتے تھے، لیکن حضرت ادریس نے سوئی اور دھاگے سے کپڑوں کی سلائی کا طریقہ سکھایا۔
4. **توحید کی دعوت**:
حضرت ادریس علیہ السلام نے لوگوں کو بت پرستی سے روکا اور اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا۔ انہوں نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔
### حضرت ادریس کا معجزہ اور آسمانوں کا سفر
اسلامی روایات اور یوٹیوب پر قصص الانبیاء کی ویڈیوز میں ایک مشہور واقعہ حضرت ادریس علیہ السلام کے آسمانوں کے سفر کا بیان کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ حالت میں آسمانوں پر اٹھایا۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے:
ایک روایت کے مطابق، حضرت ادریس علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اس کائنات کے راز دیکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور فرشتہ جبرائیل علیہ السلام یا ایک دوسرے فرشتے کو بھیجا کہ وہ حضرت ادریس کو آسمانوں کی سیر کرائیں۔ وہ آسمانوں پر گئے اور وہاں اللہ کی مخلوقات اور عجائبات دیکھے۔ بعض روایات میں کہا جاتا ہے کہ وہ چوتھے آسمان پر ہیں، جہاں ان کی روح قبض کی گئی، لیکن وہ ابھی تک زندہ ہیں اور قیامت کے دن دوبارہ زمین پر واپس آئیں گے۔
قرآن میں "بلند مقام" کا ذکر اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ نے انہیں خاص مرتبہ عطا کیا، جو کہ آسمانی سفر یا ان کی عظیم خدمات کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
### حضرت ادریس اور موت کا فرشتہ
ایک دلچسپ واقعہ جو یوٹیوب ویڈیوز میں اکثر سنایا جاتا ہے، وہ حضرت ادریس علیہ السلام اور عزرائیل علیہ السلام (موت کے فرشتے) کے درمیان ملاقات کا ہے۔ روایت کے مطابق، حضرت ادریس نے عزرائیل سے دوستی کی اور ان سے پوچھا کہ وہ انسانوں کی روح کیسے قبض کرتے ہیں۔ عزرائیل نے انہیں اللہ کے حکم سے اپنی صلاحیت دکھائی۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت ادریس نے عزرائیل سے کہا کہ وہ ان کی موت کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن صرف دیکھنے کے لیے۔ عزرائیل نے اللہ سے اجازت لی اور ان کی روح عارضی طور پر قبض کی، پھر دوبارہ واپس کی۔ اس کے بعد حضرت ادریس نے اللہ سے التجاphysics: موت کا فرشتہ حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات کے دوران ان سے موت کے عمل کے بارے میں پوچھا کہ وہ انسانوں کی روح کیسے قبض کرتے ہیں۔ عزرائیل نے اللہ سے اجازت لی اور ان کی روح کو عارضی طور پر قبض کیا، پھر واپس کردیا۔ اس کے بعد حضرت ادریس نے اللہ سے التجا کی کہ وہ جنت میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں جنت میں داخل کیا، جہاں سے وہ قیامت کے دن تک واپس نہیں آئے۔
### حضرت ادریس کی وفات یا رفع
حضرت ادریس علیہ السلام کی وفات کے بارے میں دو نظریات ہیں:
1. **وفات**: کچھ علما کہتے ہیں کہ ان کی موت ہوئی اور وہ دفن ہوئے، لیکن اس کی کوئی قطعی تاریخی شہادت نہیں۔
2. **رفع الی السماء**: زیادہ تر روایات کے مطابق، انہیں اللہ نے زندہ آسمانوں پر اٹھایا، جیسا کہ قرآن میں "بلند مقام" سے اشارہ ملتا ہے۔ یوٹیوب پر بھی یہی زیادہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں اور قیامت کے قریب دوبارہ ظاہر ہوں گے۔
### نتیجہ
حضرت ادریس علیہ السلام ایک عظیم نبی تھے جنہوں نے علم، حکمت، اور توحید کی دعوت کے ذریعے انسانیت کی رہنمائی کی۔ ان کا آسمانوں کا سفر اور بلند مقام ان کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ یوٹیوب پر ان کے واقعات کو قصص الانبیاء کے حصے کے طور پر تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے، جو کہ اسلامی روایات سے ماخوذ ہیں۔ ان کی زندگی سے ہمیں علم کی اہمیت، اللہ پر یقین، اور نیکی کی طرف بلانے کا سبق ملتا ہے۔
اگر آپ کسی خاص یوٹیوب ویڈیو کا حوالہ دے سکتے ہیں، تو میں اس کے مطابق مزید تفصیل دے سکتا ہوں!

Comments
Post a Comment