اسم کے پہلو

آسان عربی گرائمر کورس ۔۔۔۔سبق نمبر تین ۔۔۔۔ *اسم کے پہلو* ☘ *کسی بھی اسم کو جملے میں درست استعمال کرنے کیلئے چار باتوں کا جاننا ضروری ہے* ☘ 👇 یہ چار باتیں اسم کے پہلو کہلاتے ہیں 🍁 *اسم کے چار پہلو* 🍁 1. 👈 *حالت* 2. 👈 *جنس* 3. 👈 *عدد* 4. 👈 *وسعت* *حالت* کی پھر مزید sub division ہیں 👈 *رفع* 👈 *نصب* 👈 *جر* ان کی تفصیل آگے دیکھیں گے *جنس* میں دو قسمیں ہیں 👈 *مذکر* 👈 *مؤنث* *عدد* کی عربی میں تین قسمیں ہیں 👈 *واحد* 👈 *تثنیہ\ مثنی* یعنی *دو* دو کیلئے عربی میں الگ سے عدد استعمال کیا جاتا ہے 👈 *جمع* *وسعت* 👈 *معرفہ* یعنی خاص 👈 *نکرہ* یعنی عام 👆 ان سب چیزوں کی تفصیل ہم اگلی سلائیڈز میں کریں گے اسم کی *حالت* کو ہم تفصیل سے دیکھتے ہیں 🌸 *اسم کی حالت* 🌸 👈 🍁 *فاعلی حالت* 🍁 اسم کی رفع حالت کو فاعلی حالت بھی کہتے ہیں یعنی 👆 یہ اس کا متبادل لفظ ہے 👆اس *فاعلی حالت* کا دوسرا نام ہے 👈 *مرفوع* اس طرح سے رفع کو آپ *فاعلی حالت / مرفوع* کہہ سکتے ہیں مثال دیکھیں 👇 👈 ضَرَبَ *حَامِدٌ* زَیدًا 👈مارا *حامد نے* زید کو (مارنے والا حامد ہے اس لیے یہ *فاعل* ہے کیونکہ *فاعلی حالت* میں ہے مرفوع ہے کس کو مارا ہے؟ زید کو. زید👈 *مفعولی حالت* میں ہے) *حَامِدٌ فاعل ہے اور مرفوع ہے* (یہاں ایک بات نوٹ کریں👈 ضَرَبَ *حَامِدٌ* زَیدًا ااس جملے میں تین الفاظ ہیں جبکہ اسکے اردو ترجمہ میں دو ایکسٹرا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جبکہ عربی میں صرف تین الفاظ ہیں جو ایکسٹرا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں انکا کام اعراب سے لیا گیا ہے حَامِدٌ اعراب تنوین والا پیش اس طرح سے زَیدًا تنوین والا زبر 👆ان اعراب سے ان الفاظ (نے، کو) کا کام لیا گیا ہے) 👈 🍁 *مفعولی حالت* 🍁 یعنی حالت نصب مفعولی حالت کا نام ہے 👈 *منصوب* 👆 نصب کو آپ *مفعولی حالت/منصوب* کہہ سکتے ہیں 👈اَقرَضَ زَیدٌ *حَامِدًا* 👈قرض دیا زید نے *حامد کو* زید قرض دینے والا ہے ، لینے والا *حامد* ہے. حامد یہاں پہ *مفعولی حالت میں ہوگا اس لیے کہ کام کا اثر حامد پر ہو رہا ہے) *حَامِدًا مفعول ہے اور منصوب ہے* (منصوب *دو زبر اور الف* سے ظاہر ہو رہا ہے) (یہاں بھی دیکھیں 👈اَقرَضَ زَیدٌ *حَامِدًا* تین الفاظ ہیں لیکن اردو ترجمہ میں 6 الفاظ ہیں یعنی تین الفاظ یہاں 👆پہ ایکسٹرا آئے ہیں جو ایکسٹرا الفاظ ہیں یہ عربی میں استعمال نہیں کیے گئے) 👈 ☘ *اضافی حالت* ☘ یعنی حالت جر اضافی حالت کا نام ہے 👈 *مجرور* اضافی حالت کو آپ *جار و مجرور* کہہ سکتے ہیں 👈کِتَابُ *حَامِدٍ* 👈 *حامد* کی کتاب (اب 👆یہاں دیکھیں کہ *حامد اور کتاب* نہ یہ فاعلی حالت میں ہیں نہ مفعولی حالت میں بلکہ یہ تیسری حالت ہے یہ حالت *مالک اور ملکیت* والی حالت ہے. کسی چیز کو حاصل کرنے والی کسی کی مالک ہونے والی یہاں 👆 حامد کتاب کا مالک ہے اور کتاب حامد کی ملکیت ہے) *حَامِدٍ اضافی حالت ہے اور مجرور ہے* (یہاں 👈کِتَابُ *حَامِدٍ* دو لفظ ہیں جبکہ ترجمہ میں *کی* ایکسٹرا لفظ ہے اس *کی* ایکسٹرا لفظ کیلئے اس طرح 👈کِتَابُ *حَامِدٍ* کی combination بنا کے ظاہر کیا جاتا ہے کتاب پہ پیش ہے اور حامد پہ زیر ہے) 🚨 *اہم ترین* 🚨 *ہر اسم کے 🔹 مرفوع، منصوب یا مجرور🔹 ہونے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے* 🔹 *اسم اگر مرفوع ہے تو "فاعلی حالت" میں ہوگا* 🔹 *اسم اگر منصوب ہے تو "مفعولی حالت میں ہوگا* 🔹 *اسم اگر مجرور ہوگا تو" اضافی حالت" میں ہوگا* 📢 *چنانچہ گرامر میں بہتر فہم حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عبارت پر غور کیا جائے کہ اس میں"اسم" کون کون سے ہیں انکی"حالت" کیا ہے اور حالت میں ہونے کی" وجہ" کیا ہے* (یہ👆 بہت ہی" بنیادی" اور "اہم ترین" بات ہے پوری عربی گرامر کا دارو مدار 👆 اس بنیادی بات پر ہے کہ اسم کی حالت کیا ہے اب چونکہ یہ بہت ہی اہم بات ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ حالت کا تعین کیسے ہوگا) 🌸 *حالت کا تعین* 🌸 *اردو کے اس جملے پر غور کریں* 👈 *مدد کی حامد نے زید کی* (اگر یہاں 👆 "فاعل اور مفعول" کا تعین کرنا ہو تو ہم) *فاعل کے تعین کیلئے سوال کریں گے* 👈 *کس نے مدد کی* *توجواب ملے گا "حامد نے"* (چنانچہ حامد فاعل ہوگیا) *مفعول کے تعین کیلئے سوال کریں* *👈 کس کی مدد کی* *تو جواب ملے گا " زید کی"* (چنانچہ "زید" اس میں مفعول ہوا) 🔵 *چنانچہ جواب سے یہ معلوم ہوا کہ اردو عبارت میں جس لفظ کے ساتھ "نے" لگا ہو وہ "فاعل" ہوتا ہے اور جس لفظ کے ساتھ "کو/کی" لگا ہو وہ" مفعول" ہوتا ہے* *اب جملے کی ترتیب بدل دیں* *👈مدد کی زید کی حامد نے* (اب دیکھیں کہ "کی" زید کے ساتھ لگا ہے اور "نے" حامد کے ساتھ حامد فاعل ہوا اور زید مفعول ہوا یعنی انکی ترتیب بدل دی لیکن" نے اور کی" جس کے ساتھ پہلے لگا تھا اسی کے ساتھ لگا دیا تو فاعل اور مفعول تبدیل نہیں ہوئے) 👆 *حامد اب بھی فاعل اس لیے کہ اس کے ساتھ "نے" لگا ہوا ہے اور زید مفعول ہے اس لیے کہ اس کے ساتھ "کی" ہے* 👆 *ترتیب بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑا اہم بات یہ ہے کہ حرف "نے" اور" کو" کس کے ساتھ آ رہا ہے وہی فاعل اور مفعول کا تعین کرے گا* (تو اردو میں اس بات کا تعین ہوگیا کہ جس اسم کے ساتھ "نے" لگا ہو وہ فاعل ہے اور جس اسم کے ساتھ "کو/کی" لگا ہو وہ مفعول ہے) 🔵 *اعراب کا تعین* 🔵 *عربی زبان میں "نے اور کو" کیلئے کوئی الگ سے لفظ استعمال نہیں کیا جاتا. یہ کام اعراب کی مدد سے لیا جاتا ہے. اس بات سے آپ اعراب کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں* *جملہ زیر مطالعہ کا عربی ترجمہ اسطرح ہوگا 👈 نَصَرَ حَامِدٌ زَیدًا* *ترتیب بدلنے پر اسطرح ہوگا👈 نَصَرَ زَیدًا حَامِدٌ* (فاعل حالت رفع میں ہوتا ہے 👆 یہاں دیکھیں حَامِدٌٍ پر تنوینِ پیش سے حالت رفع ظاہر ہو رہی ہے دوسرے جملے میں بھی تنوینِ پیش سے حالت رفع ظاہر کی گئی ہے تو جواسم حالت رفع میں ہو گا وہ فاعل ہے) *👆دونوں صورتوں میں حامد فاعل ہے اور اسکو "تنوین پیش" سے ظاہر کیا گیا ہے اس طرح زید مفعول ہے اور اسکو "تنوین زبر" سے ظاہر کیا گیا ہے* *چنانچہ معلوم ہوا کہ:* *اسم واحدہو تو فاعل پیش سے ظاہر ہوگا اور مفعول زبر سے* *یعنی "فاعل" کی صورت میں اسم👈"مرفوع" اور مفعول 👈"منصوب" ہوگا* 🔹 *اعراب کی تبدیلی کے اعتبار سے اسم کی اقسام* 🔹 1. *👈 معرب منصرف* *80_85 فیصد الفاظ عربی زبان میں معرب منصرف ہوتے ہیں یعنی اسماء کا آخری حصہ رفع، نصب اور جر تینوں حالتوں میں تبدیل ہوتا ہے* *جیسے:* *کِتَابٌ کِتَابًا کِتَابٍ* (معرب منصرف ہے "کتابٌ" کا آخری حرف ب پہ پیش تنوین ہے "کتابًا" پر تنوین زبر آگئی " کتابٍ" پر زیر والی تنوین 👆اسکی شکل تین طرح سے تبدیل ہو رہی ہے تو یہ معرب منصرف کہلائیں گے) 2. *👈 معرب غیر منصرف* *12_ 13 فیصد الفاظ غیر منصرف ہیں یعنی آخری حرف تینوں حالتوں میں نہیں بدلتا بلکہ وہ صرف دو شکلیں اختیار کرتا ہے* جیسے: *اِبرَاھِیمُ اِبرَاھِیمَ اِبرَاھِیمَ* (دوسری اور تیسری شکل ایک جیسی ہے اس نے صرف دو شکلیں بدلی ہیں ، یعنی ابراہیمُ اور ابراہیمَ جملے میں استعمال سے ہمیں پتہ چلے گا کہ ابراہیمَ کونسی حالت میں ہے حالت نصب یا حالت جر کیونکہ دونوں کی ایک شکل ہے) 3. *👈 مبنی* *2_3 فیصد الفاظ مبنی ہیں یعنی تینوں حالتوں میں ایک جیسے رہتے ہیں* (لکھنے میں ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن حقیقتاً کوئی ان میں حالت رفع میں ہوگا کوئی نصب یا جر میں ہوگا وہاں بھی جملے کے سیاق و سباق کے اعتبار سے پتہ چلے گا کہ یہ کس حالت میں ہیں) *جیسے:* *ھدًی ھدًی ھدًی* 🌸 *اعراب کی تین صورتیں* 🌸 1. *حالت رفع __ٌ__* حالت رفع میں جو بھی لفظ ہوگا اسکے آخری حرف پہ دو پیش آئیں گی مثال: 👈 *رَفِیقٌ* 👈 *کَافِرٌ* 👈 *عَابِدٌ* 2. *حالت نصب __ً__ا* حالت نصب جو بھی لفظ ہوگا اسکے آخری حرف پہ دو زبر آئیں گی اور عام طور پر الف کا اضافہ ہو جاتا ہے بعض الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جنکے ساتھ الف کا اضافہ نہیں ہوتا اس لیے "عام طور پر" استعمال کیا ہے 👈 *رَفِیقًا* 👈 *کَافِرًا* دو زبر کے ساتھ الف کا اضافہ 👈 *عَابِدًا* 3. *حالت جر ---ٍ--* حالت جر میں آخری حرف کے نیچےدو زیر آئیں گی جیسے 👈 *رَفِیقٍ* دو زیر آخری حرف پہ 👈 *کَافِرٍ* 👈 *عَابِدٍ* 👆 *غور کریں حالت نصب میں تنوین کے ساتھ" الف" کا اضافہ کیا گیا ہے* 🍁 *اعرابی حالت* 🍁 *جملے میں استعمال کے لحاظ سے تین اعرابی حالتیں* مزید مثالیں دیکھتے ہیں *رفع نصب جر* *بِنتٌ بِنتًا بِنتٍ* *جَنَّۃٌ جَنَّۃً جَنَّۃٍ* *شَئءٌ شَیئًا شَئءٍ* *سُوءٌ سُوءًا سُوءٍ* *سَمَاءٌ سَمَاءً سَمَاءٍ* (👆 بنتًا شیئًا سوءًا الف کا اضافہ ہوا لیکن جنۃً اور سماءً ان میں الف کا اضافہ نہیں ہوا جیسے کہا تھا کہ عام طور پر الف کا اضافہ ہوتا ہے تو یہ 👆 اسکے استثناء ہیں *استثنی* 1. *لفظ کے آخر میں "ۃ" ہو تو حالت نصب میں الف کا اضافہ نہیں ہوگا* 2. *لفظ کے آخر میں "اء" ہو تو حالت نصب میں الف کا اضافہ نہیں ہوگا* ☘ *غیر منصرف اسماء* ☘ جو اپنی دو حالتیں تبدیل کرتے ہیں *ایسے اسما جن کی نصب اور جر میں ایک ہی شکل ہوتی ہے* *رفع نصب جر* *اِبرَاھِیمُ اِبرَاھِیمَ اِبرَاھِیمَ* *مَکّۃُ مَکّۃَ مَکّۃَ* *مَریَمُ مَریَمَ مَریَمَ* *اِسرَائِیلُ اِسرَائِیلَ اِسرَائِیلَ* *اَحمرُ اَحمَرَ اَحمَرَ* 👆 غیر منصرف اسماء میں حالت نصب اور جر ایک ہی شکل میں ہے 🌟 *مبنی اسماء* 🌟 👈 *ایسے اسماء جنکی رفع، نصب اور جر میں ایک ہی شکل ہوتی ہو* *رفع نصب جر* *ھذَا ھذَا ھذَا* *اَلَّذِی اَلَّذِی اَلَّذِی* *تِلکَ تِلکَ تِلکَ* *مُوسی مُوسی مُوسی* *عِیسی عِیسی عِیسی* حالت رفع، نصب جر سب میں ایک ہی شکل ہے جملے میں استعمال سے پتہ چلے گا کہ یہ کونسی حالت میں ہیں 💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚آسان عربی گرائمر کورس ۔۔۔۔سبق نمبر تین ۔۔۔۔ *اسم کے پہلو* ☘ *کسی بھی اسم کو جملے میں درست استعمال کرنے کیلئے چار باتوں کا جاننا ضروری ہے* ☘ 👇 یہ چار باتیں اسم کے پہلو کہلاتے ہیں 🍁 *اسم کے چار پہلو* 🍁 1. 👈 *حالت* 2. 👈 *جنس* 3. 👈 *عدد* 4. 👈 *وسعت* *حالت* کی پھر مزید sub division ہیں 👈 *رفع* 👈 *نصب* 👈 *جر* ان کی تفصیل آگے دیکھیں گے *جنس* میں دو قسمیں ہیں 👈 *مذکر* 👈 *مؤنث* *عدد* کی عربی میں تین قسمیں ہیں 👈 *واحد* 👈 *تثنیہ\ مثنی* یعنی *دو* دو کیلئے عربی میں الگ سے عدد استعمال کیا جاتا ہے 👈 *جمع* *وسعت* 👈 *معرفہ* یعنی خاص 👈 *نکرہ* یعنی عام 👆 ان سب چیزوں کی تفصیل ہم اگلی سلائیڈز میں کریں گے اسم کی *حالت* کو ہم تفصیل سے دیکھتے ہیں 🌸 *اسم کی حالت* 🌸 👈 🍁 *فاعلی حالت* 🍁 اسم کی رفع حالت کو فاعلی حالت بھی کہتے ہیں یعنی 👆 یہ اس کا متبادل لفظ ہے 👆اس *فاعلی حالت* کا دوسرا نام ہے 👈 *مرفوع* اس طرح سے رفع کو آپ *فاعلی حالت / مرفوع* کہہ سکتے ہیں مثال دیکھیں 👇 👈 ضَرَبَ *حَامِدٌ* زَیدًا 👈مارا *حامد نے* زید کو (مارنے والا حامد ہے اس لیے یہ *فاعل* ہے کیونکہ *فاعلی حالت* میں ہے مرفوع ہے کس کو مارا ہے؟ زید کو. زید👈 *مفعولی حالت* میں ہے) *حَامِدٌ فاعل ہے اور مرفوع ہے* (یہاں ایک بات نوٹ کریں👈 ضَرَبَ *حَامِدٌ* زَیدًا ااس جملے میں تین الفاظ ہیں جبکہ اسکے اردو ترجمہ میں دو ایکسٹرا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جبکہ عربی میں صرف تین الفاظ ہیں جو ایکسٹرا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں انکا کام اعراب سے لیا گیا ہے حَامِدٌ اعراب تنوین والا پیش اس طرح سے زَیدًا تنوین والا زبر 👆ان اعراب سے ان الفاظ (نے، کو) کا کام لیا گیا ہے) 👈 🍁 *مفعولی حالت* 🍁 یعنی حالت نصب مفعولی حالت کا نام ہے 👈 *منصوب* 👆 نصب کو آپ *مفعولی حالت/منصوب* کہہ سکتے ہیں 👈اَقرَضَ زَیدٌ *حَامِدًا* 👈قرض دیا زید نے *حامد کو* زید قرض دینے والا ہے ، لینے والا *حامد* ہے. حامد یہاں پہ *مفعولی حالت میں ہوگا اس لیے کہ کام کا اثر حامد پر ہو رہا ہے) *حَامِدًا مفعول ہے اور منصوب ہے* (منصوب *دو زبر اور الف* سے ظاہر ہو رہا ہے) (یہاں بھی دیکھیں 👈اَقرَضَ زَیدٌ *حَامِدًا* تین الفاظ ہیں لیکن اردو ترجمہ میں 6 الفاظ ہیں یعنی تین الفاظ یہاں 👆پہ ایکسٹرا آئے ہیں جو ایکسٹرا الفاظ ہیں یہ عربی میں استعمال نہیں کیے گئے) 👈 ☘ *اضافی حالت* ☘ یعنی حالت جر اضافی حالت کا نام ہے 👈 *مجرور* اضافی حالت کو آپ *جار و مجرور* کہہ سکتے ہیں 👈کِتَابُ *حَامِدٍ* 👈 *حامد* کی کتاب (اب 👆یہاں دیکھیں کہ *حامد اور کتاب* نہ یہ فاعلی حالت میں ہیں نہ مفعولی حالت میں بلکہ یہ تیسری حالت ہے یہ حالت *مالک اور ملکیت* والی حالت ہے. کسی چیز کو حاصل کرنے والی کسی کی مالک ہونے والی یہاں 👆 حامد کتاب کا مالک ہے اور کتاب حامد کی ملکیت ہے) *حَامِدٍ اضافی حالت ہے اور مجرور ہے* (یہاں 👈کِتَابُ *حَامِدٍ* دو لفظ ہیں جبکہ ترجمہ میں *کی* ایکسٹرا لفظ ہے اس *کی* ایکسٹرا لفظ کیلئے اس طرح 👈کِتَابُ *حَامِدٍ* کی combination بنا کے ظاہر کیا جاتا ہے کتاب پہ پیش ہے اور حامد پہ زیر ہے) 🚨 *اہم ترین* 🚨 *ہر اسم کے 🔹 مرفوع، منصوب یا مجرور🔹 ہونے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے* 🔹 *اسم اگر مرفوع ہے تو "فاعلی حالت" میں ہوگا* 🔹 *اسم اگر منصوب ہے تو "مفعولی حالت میں ہوگا* 🔹 *اسم اگر مجرور ہوگا تو" اضافی حالت" میں ہوگا* 📢 *چنانچہ گرامر میں بہتر فہم حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عبارت پر غور کیا جائے کہ اس میں"اسم" کون کون سے ہیں انکی"حالت" کیا ہے اور حالت میں ہونے کی" وجہ" کیا ہے* (یہ👆 بہت ہی" بنیادی" اور "اہم ترین" بات ہے پوری عربی گرامر کا دارو مدار 👆 اس بنیادی بات پر ہے کہ اسم کی حالت کیا ہے اب چونکہ یہ بہت ہی اہم بات ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ حالت کا تعین کیسے ہوگا) 🌸 *حالت کا تعین* 🌸 *اردو کے اس جملے پر غور کریں* 👈 *مدد کی حامد نے زید کی* (اگر یہاں 👆 "فاعل اور مفعول" کا تعین کرنا ہو تو ہم) *فاعل کے تعین کیلئے سوال کریں گے* 👈 *کس نے مدد کی* *توجواب ملے گا "حامد نے"* (چنانچہ حامد فاعل ہوگیا) *مفعول کے تعین کیلئے سوال کریں* *👈 کس کی مدد کی* *تو جواب ملے گا " زید کی"* (چنانچہ "زید" اس میں مفعول ہوا) 🔵 *چنانچہ جواب سے یہ معلوم ہوا کہ اردو عبارت میں جس لفظ کے ساتھ "نے" لگا ہو وہ "فاعل" ہوتا ہے اور جس لفظ کے ساتھ "کو/کی" لگا ہو وہ" مفعول" ہوتا ہے* *اب جملے کی ترتیب بدل دیں* *👈مدد کی زید کی حامد نے* (اب دیکھیں کہ "کی" زید کے ساتھ لگا ہے اور "نے" حامد کے ساتھ حامد فاعل ہوا اور زید مفعول ہوا یعنی انکی ترتیب بدل دی لیکن" نے اور کی" جس کے ساتھ پہلے لگا تھا اسی کے ساتھ لگا دیا تو فاعل اور مفعول تبدیل نہیں ہوئے) 👆 *حامد اب بھی فاعل اس لیے کہ اس کے ساتھ "نے" لگا ہوا ہے اور زید مفعول ہے اس لیے کہ اس کے ساتھ "کی" ہے* 👆 *ترتیب بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑا اہم بات یہ ہے کہ حرف "نے" اور" کو" کس کے ساتھ آ رہا ہے وہی فاعل اور مفعول کا تعین کرے گا* (تو اردو میں اس بات کا تعین ہوگیا کہ جس اسم کے ساتھ "نے" لگا ہو وہ فاعل ہے اور جس اسم کے ساتھ "کو/کی" لگا ہو وہ مفعول ہے) 🔵 *اعراب کا تعین* 🔵 *عربی زبان میں "نے اور کو" کیلئے کوئی الگ سے لفظ استعمال نہیں کیا جاتا. یہ کام اعراب کی مدد سے لیا جاتا ہے. اس بات سے آپ اعراب کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں* *جملہ زیر مطالعہ کا عربی ترجمہ اسطرح ہوگا 👈 نَصَرَ حَامِدٌ زَیدًا* *ترتیب بدلنے پر اسطرح ہوگا👈 نَصَرَ زَیدًا حَامِدٌ* (فاعل حالت رفع میں ہوتا ہے 👆 یہاں دیکھیں حَامِدٌٍ پر تنوینِ پیش سے حالت رفع ظاہر ہو رہی ہے دوسرے جملے میں بھی تنوینِ پیش سے حالت رفع ظاہر کی گئی ہے تو جواسم حالت رفع میں ہو گا وہ فاعل ہے) *👆دونوں صورتوں میں حامد فاعل ہے اور اسکو "تنوین پیش" سے ظاہر کیا گیا ہے اس طرح زید مفعول ہے اور اسکو "تنوین زبر" سے ظاہر کیا گیا ہے* *چنانچہ معلوم ہوا کہ:* *اسم واحدہو تو فاعل پیش سے ظاہر ہوگا اور مفعول زبر سے* *یعنی "فاعل" کی صورت میں اسم👈"مرفوع" اور مفعول 👈"منصوب" ہوگا* 🔹 *اعراب کی تبدیلی کے اعتبار سے اسم کی اقسام* 🔹 1. *👈 معرب منصرف* *80_85 فیصد الفاظ عربی زبان میں معرب منصرف ہوتے ہیں یعنی اسماء کا آخری حصہ رفع، نصب اور جر تینوں حالتوں میں تبدیل ہوتا ہے* *جیسے:* *کِتَابٌ کِتَابًا کِتَابٍ* (معرب منصرف ہے "کتابٌ" کا آخری حرف ب پہ پیش تنوین ہے "کتابًا" پر تنوین زبر آگئی " کتابٍ" پر زیر والی تنوین 👆اسکی شکل تین طرح سے تبدیل ہو رہی ہے تو یہ معرب منصرف کہلائیں گے) 2. *👈 معرب غیر منصرف* *12_ 13 فیصد الفاظ غیر منصرف ہیں یعنی آخری حرف تینوں حالتوں میں نہیں بدلتا بلکہ وہ صرف دو شکلیں اختیار کرتا ہے* جیسے: *اِبرَاھِیمُ اِبرَاھِیمَ اِبرَاھِیمَ* (دوسری اور تیسری شکل ایک جیسی ہے اس نے صرف دو شکلیں بدلی ہیں ، یعنی ابراہیمُ اور ابراہیمَ جملے میں استعمال سے ہمیں پتہ چلے گا کہ ابراہیمَ کونسی حالت میں ہے حالت نصب یا حالت جر کیونکہ دونوں کی ایک شکل ہے) 3. *👈 مبنی* *2_3 فیصد الفاظ مبنی ہیں یعنی تینوں حالتوں میں ایک جیسے رہتے ہیں* (لکھنے میں ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن حقیقتاً کوئی ان میں حالت رفع میں ہوگا کوئی نصب یا جر میں ہوگا وہاں بھی جملے کے سیاق و سباق کے اعتبار سے پتہ چلے گا کہ یہ کس حالت میں ہیں) *جیسے:* *ھدًی ھدًی ھدًی* 🌸 *اعراب کی تین صورتیں* 🌸 1. *حالت رفع __ٌ__* حالت رفع میں جو بھی لفظ ہوگا اسکے آخری حرف پہ دو پیش آئیں گی مثال: 👈 *رَفِیقٌ* 👈 *کَافِرٌ* 👈 *عَابِدٌ* 2. *حالت نصب __ً__ا* حالت نصب جو بھی لفظ ہوگا اسکے آخری حرف پہ دو زبر آئیں گی اور عام طور پر الف کا اضافہ ہو جاتا ہے بعض الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جنکے ساتھ الف کا اضافہ نہیں ہوتا اس لیے "عام طور پر" استعمال کیا ہے 👈 *رَفِیقًا* 👈 *کَافِرًا* دو زبر کے ساتھ الف کا اضافہ 👈 *عَابِدًا* 3. *حالت جر ---ٍ--* حالت جر میں آخری حرف کے نیچےدو زیر آئیں گی جیسے 👈 *رَفِیقٍ* دو زیر آخری حرف پہ 👈 *کَافِرٍ* 👈 *عَابِدٍ* 👆 *غور کریں حالت نصب میں تنوین کے ساتھ" الف" کا اضافہ کیا گیا ہے* 🍁 *اعرابی حالت* 🍁 *جملے میں استعمال کے لحاظ سے تین اعرابی حالتیں* مزید مثالیں دیکھتے ہیں *رفع نصب جر* *بِنتٌ بِنتًا بِنتٍ* *جَنَّۃٌ جَنَّۃً جَنَّۃٍ* *شَئءٌ شَیئًا شَئءٍ* *سُوءٌ سُوءًا سُوءٍ* *سَمَاءٌ سَمَاءً سَمَاءٍ* (👆 بنتًا شیئًا سوءًا الف کا اضافہ ہوا لیکن جنۃً اور سماءً ان میں الف کا اضافہ نہیں ہوا جیسے کہا تھا کہ عام طور پر الف کا اضافہ ہوتا ہے تو یہ 👆 اسکے استثناء ہیں *استثنی* 1. *لفظ کے آخر میں "ۃ" ہو تو حالت نصب میں الف کا اضافہ نہیں ہوگا* 2. *لفظ کے آخر میں "اء" ہو تو حالت نصب میں الف کا اضافہ نہیں ہوگا* ☘ *غیر منصرف اسماء* ☘ جو اپنی دو حالتیں تبدیل کرتے ہیں *ایسے اسما جن کی نصب اور جر میں ایک ہی شکل ہوتی ہے* *رفع نصب جر* *اِبرَاھِیمُ اِبرَاھِیمَ اِبرَاھِیمَ* *مَکّۃُ مَکّۃَ مَکّۃَ* *مَریَمُ مَریَمَ مَریَمَ* *اِسرَائِیلُ اِسرَائِیلَ اِسرَائِیلَ* *اَحمرُ اَحمَرَ اَحمَرَ* 👆 غیر منصرف اسماء میں حالت نصب اور جر ایک ہی شکل میں ہے 🌟 *مبنی اسماء* 🌟 👈 *ایسے اسماء جنکی رفع، نصب اور جر میں ایک ہی شکل ہوتی ہو* *رفع نصب جر* *ھذَا ھذَا ھذَا* *اَلَّذِی اَلَّذِی اَلَّذِی* *تِلکَ تِلکَ تِلکَ* *مُوسی مُوسی مُوسی* *عِیسی عِیسی عِیسی* حالت رفع، نصب جر سب میں ایک ہی شکل ہے جملے میں استعمال سے پتہ چلے گا کہ یہ کونسی حالت میں ہیں 💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚

Comments

Popular Posts